نئی دہلی24فروری(ایس او نیوز؍ آئی این ایس انڈیا )سیاست میں آنے سے پہلے تفریحی صنعت میں اپنی ایک خاص جگہ بنانے والے بھارتیہ جنتا پارٹی کے دہلی صدر منوج تیواری اپنے اندر کے آرٹسٹ کو زندہ رکھنا چاہتے ہیں،مگر ہندی فلم انڈسٹری میں پاکستانی فنکاروں کے کام کرنے پر دو سال کے لئے پابندی عائد کرنے کی بابل سپریو کے مطالبے پر انہوں نے اپنی رائے ظاہر کرنے سے صاف انکار کر دیا۔ان سب کا آغاز کچھ بھارتی سیاسی تنظیموں کی طرف سے پاکستانی فنکاروں پر پابندی لگانے سے اور پھر کچھ پاکستانی سینما گھروں کی طرف سے بھارتی فلموں کی نمائش سے انکار کے ساتھ ہوا۔ یہ قدم جموں و کشمیر کے اوڑی میں 18 ستمبر 2016 کو ہوئے حملے کی مخالفت میں اٹھایا گیا تھا، جس میں 19 بھارتی فوجی شہید ہوئے تھے۔ اس سے بھارت اور پاکستان کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہو گئے۔ یہ مسئلہ رواں ماہ کے آغاز میں اس وقت پھر سرخیوں میں آ گیا، جب مرکزی وزیر بابل سپریو نے کہا کہ بالی وڈ فلم 'ویلکم ٹو نیو یارک' کے گانے ’اشتہارات‘کو پاکستان کے مقبول گلوکار راحت فتح علی خان کو گانے کا موقع دینے کے بجائے کسی اور کو گانے کا موقع دینا چاہئے تھا۔ اس بارے میں پوچھے جانے پر منوج تیواری نے تھوڑا رک کر، مسکراتے ہوئے کہا کہ ہم اس پہ کچھ نہیں بولنا چاہتے۔انہوں نے اس سوال کو پرے رکھتے ہوئے اس پر بات کرنی شروع کر دی کہ وہ کس طرح شوبز اور سیاسی کیریئر کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ مجھے فلمیں یا دیگر پراجیکٹ کرنے کا وقت نہیں ملتا۔ فلم ’یادو پان اسٹورز‘ کو پورا کرنے میں مجھے چار سال لگ گئے۔ میں نے ایک فلم 30 دنوں میں مکمل کر لیتا تھا۔میرے اندر کی صلاحیت جس کے لئے مجھے تعریف ملی، سیاستدان ہونے کی وجہ سے مصروف پروگراموں کے باوجود میں اپنے اندر کے منوج تیواری ایک فنکار کو زندہ رکھنا چاہتا ہوں۔منوج کی آخری بھوجپوری فلم ’گوبر سنگھ‘(2013) تھی اور اب وہ’یادو پان اسٹورز‘کو لے کر پرجوش ہیں۔ منوج تیواری نے کہاکہ میں اس وقت پریشان ہو جاتا ہوں، جب لوگوں کو چھوٹا موٹا کام کرنے کے چلتے کسی کا مذاق اڑاتے دیکھتا ہوں۔ میں نے بہت سے چھوٹے کام کیے اور یہاں تک پہنچا ہوں، بڑا ہونے کے دوران میں ڈرائیور ہوا کرتا تھا، میں نے کچھ اضافی پیسہ کمانے کے لئے یہ کام کیا۔انہوں نے کہا کہ ان کی آنے والی فلم اسی موضوع پر مبنی ہے۔